حضرت مولانا حافظ محمد احمد صاحب رحمۃ اﷲ علیہ اپنے زمانہ کے قابل اعتماد عالم اور فقیہ تھے، نظام حیدر آباد نے آپ کو وہاں کے مسند افتاء کی صدارت بھی عطا کی تھی، اس زمانہ میں جو فتاوی لکھے گئے ہیں ان میں سے حضرت والا کے اہم ترین چھپن فتاوی جو انتہائی مدلل ہیں عکس احمد میں ص: ۳۷۶ سے ۴۶۳ تک میں نقل کئے گئے ہیں ، ان میں مذکورہ فتوی تقریباً دو صفحہ پر مدلل طور پر موجود ہے۔
اس لئے ضرورت اور حاجتِ ناس کی وجہ سے مشائخِ سمرقند اور مشائخِ بلخ اور مشائخِ بخاری اور امام نجم الدین نسفیؒ اور صاحبِ نہایہ وغیرہم کے فتویٰ کے مطابق اس زمانہ میں بیع الوفاء کے جواز پر فتویٰ دینا اولیٰ اور انسب ہوگا۔
بیع الوفاء کے بارے میں مفصل بحث اور فقہاء کی آراء
بیع الوفاء کو فقہی نقطۂ نظر سے کس اصول اور ضابطہ کے دائرہ میں داخل کیا جائے؟ آیا اسے بیعِ صحیح کے دائرہ میں داخل کیا جائے یا بیعِ فاسد کے دائرہ میں یا رہن کے اصول وضابطہ کے دائرہ میں شمار کیا جائے یا بیع مکرہ کے ضابطہ میں داخل کیا جائے، یا اسے بیع اور رہن سے مرکب ایک الگ عقد قرار دیا جائے یا بیع صحیح اور بیع فاسد اور رہن تینوں سے مرکب ہوکر ایک مستقل عقد
10 میں سے 685
فریقِ اول بیع صحیح کے قائلین
مشائخ بلخ اور مشائخ بخاریٰ نے بیع الوفاء کے جواز پر فتویٰ جاری فرمایا ہے اور مشائخ سمرقند میں سے امام نجم الدین نسفیؒ وغیرہ فرماتے ہیں کہ بیع الوفاء کو لوگوں کی ضرورت اور اس میں تعامل کی وجہ سے بیع صحیح کے اصول وضابطہ کے دائرہ میں داخل کرکے صحیح قرار دیا جائے گا، اس لئے کہ زمانہ کے تمام مشائخ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ ایسی بیع ہے جو جائز ہے اور بہت سے احکامِ بیع کو محیط اور مفید ہے، اور لوگوں کی ضرورت کی وجہ سے اس عقد کو جائز اور صحیح قرار دیا گیا ہے، اور امام زیلعیؒ نے اسی کو مفتی بہ قرار دیا ہے۔ اور علامہ ابن نجیمؒ نے الاشباہ میں بیع الوفاء کے بیع صحیح ہونے اور اس کی صحت پر فتویٰ نقل فرمایا ہے؛ لہٰذا بیع الوفاء شرعی طور پر جائز اور درست ہے۔ حضراتِ فقہاء کی عبارات ملاحظہ فرمائیے:
وَمِنْ مَشَایِخِ سَمَرْقَنْدَ مَنْ جَعَلَہٗ بَیْعاً جَائِزاً مُفِیْداً بَعْضَ أَحْکَامِہٖ مِنْہُمْ الإِمَامُ نَجْمُ الدِّیْنِ النَّسَفِیُّ فَقَالَ اِتَّفَقَ مَشَایِخُنَا فِیْ ہٰذَا الزَّمَانِ فَجَعَلُوْہُ بَیْعاً جَائِزاً مُفِیْداً بَعْضَ أَحْکَامِہٖ وَہُوَ الْاِنْتِفَاعُ بِہٖ دُوْنَ الْبَعْضِ
اور مشائخ سمرقند میں سے کچھ وہ حضرات ہیں جنہوں نے اس کو بیع صحیح اور بیع جائز کے دائرہ میں داخل کیا ہے، جو بیع کے بعض احکام کو مفید ہے، انہیں مشائخ میں سے امام نجم الدین نسفیؒ ہیں ، پس وہ فرماتے ہیں کہ اس زمانہ کے مشائخ نے متفق ہوکر اس بیع کو جائز قرار دیا ہے جو عقد بیع کے بعض احکام کو مفید ہے، اور وہ اس بیع کے بعض منافع سے فائدہ اٹھانا ہے، بعض سے نہیں (جیساکہ مشتری اس کو بیچ
10 میں سے 686
نہیں سکتا) اور لوگوں کو اس بیع کی ضرورت ہونے کی وجہ سے اور لوگوں کے اس میں تعامل ہونے کی وجہ سے اس بیع کو جائز قرار دیا گیا ہے، اور کبھی تعاملِ ناس کی وجہ سے قواعد وضوابط کو چھوڑدیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے بیعِ استصناع کو جائز قرار دیا گیا ہے اور صاحبِ نہایہ نے کہا کہ اس کے بیعِ صحیح ہونے پر ہی فتویٰ ہے۔
اور علامہ شامی رحمۃ اﷲ علیہ نے اس کے بیع صحیح ہونے کو زیلعی کے حوالہ سے ان الفاظ کے ساتھ نقل فرمایا ہے، نیز علامہ ابن نجیم مصری رحمۃ اﷲ علیہ نے بھی اسی طرح کے الفاظ نقل فرمائے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیے:
أَنَّہٗ بَیْعٌ صَحِیْحٌ یُفِیْدُ لِبَعْضِ أَحْکَامِہٖ مِنْ حِلِّ الْاِنْتِفَاعِ بِہٖ إِلاَّ أَنَّہٗ لَا یَمْلِکُ بَیْعَہٗ، قَالَ الزَّیْلَعِيْ فِي الْاِکْرَاہِ وَعَلَیْہِ الْفَتویٰ۔ (شامی زکریا ۷؍۵۴۶، کراچی ۵؍۲۷۷، وہٰکذا فی البحر الرائق کوئٹہ ۶؍۷، زکریا ۶؍۱۲)
بے شک یہ بیع صحیح ہے جو بیع کے بعض احکام کو مفید ہے، اس کے ذریعہ نفع کے حلال ہونے کی وجہ سے مگر یہ کہ مشتری اس کو بیچنے کا مالک نہیں ہوگا، زیلعی نے کتاب الاکراہ میں فرمایا ہے کہ اسی پر فتویٰ ہے۔
الاشباہ والنظائر میں اس طرح کے الفاظ سے نقل کیا گیا ہے:
وَمِنْ ہٰذَا الْقَبِیْلِ بَیْعُ الْاَمَانَۃِ الْمُسَمّٰی بَیْعُ الْوَفَائِ جَوَّزَہٗ
اور اسی قبیل سے بیع الأمانۃ ہے جو بیع الوفاء کے نام سے موسوم ہے، مشائخ بلخ اور مشائخ
10 میں سے 687
بخاریٰ نے لوگوں سے تنگی دور کرکے وسعت دیتے ہوئے اس کو جائز قرار دیا ہے۔
اور الاشباہ والنظائر میں دوسری جگہ صاف الفاظ کے ساتھ مذکور ہے کہ بیع الوفاء کے بیع صحیح ہونے پر ہی فتویٰ ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
وَمِنْہَا الإفْتَائُ بِصِحَّۃِ بَیْعِ الْوَفَائِ حِیْنَ کَثُرَ الدَّیْنُ عَلٰی أَہْلِ بُخَاریٰ وَہٰکَذَا بِمِصْرَ وَقَدْ سَمُّوْہُ بَیْعَ الْأَمَانَۃِ وَالشَّافِعِیَّۃُ یُسَمُّوْنَہٗ الرَّہْنَ الْمُعَادَ۔ (الاشباہ والنظائر قدیم ۱۴۹)
اسی قبیل میں سے بیع الوفاء کی صحت پر فتویٰ جاری کرنا ہے جس وقت اہل بخاریٰ پر دیون کی کثرت ہوگئی تھی اور ایسا ہی مصر میں ہوا ہے اور یقینا اس کا نام مشائخ مصر نے بیع الأمانۃ رکھا ہے اور شوافع نے اس کا نام ’’الرہن المعاد‘‘ رکھا ہے۔
فریقِ ثانی بیع فاسد کے قائلین
امام ظہیر الدین ابوبکر محمد بن احمد البخاری اور امام شہاب الدین احمد الچلپی وغیرہ فرماتے ہیں کہ بیع الوفاء میں مقتضائے عقد کے خلاف شرطِ فاسد پائی جاتی ہے اس لئے بیع الوفاء کو بیع فاسد کے اصول وضوابط کے دائرہ میں داخل کیا جائے گا اور بائع کے ثمن اور دین کی واپسی کے موقع پر مبیع کی واپسی کو بیع فاسد کے اصول وضوابط کے مطابق واجب الاسترداد قرار دیا جائے گا؛ لہٰذا اس کاحکم تمام بیوعِ فاسدہ کے حکم کی طرح ہوگا، اس لئے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عقد بیع کے ساتھ شرط لگانے سے منع فرمایا ہے، اس کو حضراتِ فقہاء نے اس طرح کے الفاظ سے نقل فرمایا ہے:
10 میں سے 688
اسی کو امام ظہیر الدین نے اختیار فرمایا ہے بایں طور پر کہ یہ بیع فاسد ہے؛ لہٰذا اگر طرفین نے عقد کرلیا ہے پھر ان میں سے ایک نے کہا جب میں ثمن لاکر کے واپس کردوں گا تو میری مبیع مجھے واپس کردینا، دوسرے نے کہا جی ہاں ! تو بیع فاسد نہیں ہوگی، بہرحال اگر دونوں نے عقد بیع میں اس کی شرط لگادی ہے تو بیع فاسد ہوجائے گی۔
وَالْأَصَحُّ عِنْدِیْ أَنَّہٗ بَیْعٌ فَاسِدٌ یُوْجِبُ الْمِلْکَ بَعْدَ الْقَبْضِ وَحُکْمُہٗ حُکْمُ سَائِرِ الْبَیَاعَاتِ الْفَاسِدَۃِ لِأَنَّہٗ بَیْعٌ بِشَرْطٍ لَا یَقْتَضِیْہِ الْعَقْدُ وَقَدْ نَہَی النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ بَیْعٍ وَشَرْطٍ الخ۔ (حاشیہ شلبی علی تببین الحقائق إمدادیہ ملتان ۵/ ۱۸۴، زکریا ۶/ ۲۳۸)
اور زیادہ صحیح میرے نزدیک یہی ہے کہ بیع الوفاء بیع فاسد ہے جو قبضہ کے بعد ملکیت کو لازم کرتی ہے اور اس کا حکم تمام بیوعِ فاسدہ کی طرح ہے؛ اس لئے کہ یہ بیع ایسی شرط کے ساتھ مشروط ہے جس کا عقد تقاضہ نہیں کرتا، حالاں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع اور شرط سے منع فرمایا ہے۔
فریقِ ثالث بیع صحیح یا بیعِ فاسد کے قائلین
امام فخر الدین حسن بن منصور الاوزجندی وغیرہ نے فرمایا کہ بیع الوفاء رہن کے دائرہ میں داخل نہیں ہوسکتی؛ بلکہ صحیح بات یہی ہے کہ وہ عقدِ بیع ہی کے دائرہ میں داخل ہوگی؛ لہٰذا اگر صلبِ
10 میں سے 689
وَالصَّحِیْحُ أَنَّ الْعَقْدَ الَّذِيْ جَریٰ بَیْنَہُمَا إِنْ کَانَ بِلَفْظِ الْبَیْعِ لَا یَکُوْنُ رَہْناً ثُمَّ یُنْظَرُ إِنْ ذَکَرَا شَرْطَ الْفَسْخِ فِي الْبَیْعِ فَسَدَ الْبَیْعُ وَإِنْ لَمْ یَذْکُرَا ذٰلِکَ فِي الْبَیْعِ وَتَلَفَّظَا بِلَفْظِ الْبَیْعِ بِشَرْطِ الْوَفَائِ أَوْ تَلَفَّظَا بِالْبَیْعِ الْجَائِزِ وَعِنْدَہُمَا ہٰذَا الْبَیْعُ عِبَارَۃٌ عَنْ عقد غَیْرِ لَازِمٍ فَکَذٰلِکَ وَلَفْظَۃُ صَاحِبِ الْبَحْرِ فَالْبَیْعُ فَاسِدٌ وَإِنْ ذَکَرَا الْبَیْعَ بِلَا شَرْطٍ ثُمَّ شَرَطَاہُ عَلٰی
اور صحیح یہی ہے کہ بے شک وہ ایسا عقد ہے جو متعاقدین کے درمیان میں جاری ہوا ہے، اگر لفظ بیع کے ساتھ عقد ہوا ہے تو وہ رہن نہیں ہوسکتا، پھر دیکھا جائے کہ اگر صلب عقد میں فسخ کی شرط کا ذکر کیا ہے تو بیع فاسد ہوجائے گی، اور اگر صلب عقد میں اس شرط کا ذکر نہیں کیا ہے اور دونوں نے لفظ بیع کا تلفظ وفا کی شرط کے ساتھ کیا ہے یا دونوں نے بیع جائز کے ساتھ تلفظ کیا ہے اور ایسی بیع کا نام حضراتِ صاحبین ؒکے نزدیک بیع غیر لازم ہے، تو بھی ایسا ہی حکم ہوگا اور صاحب بحر کے الفاظ یہ ہیں کہ ایسی صورت میں بیع فاسد
10 میں سے 690
ہوجائے گی اور اگر بغیر شرط کے دونوں نے عقد میں لفظ بیع کا ذکر کیا ہے، پھر اس کے بعد معاہدہ کے طور پر وفا کی شرط لگائی ہے تو بیع جائز اور صحیح ہوجائے گی اور وفا بھی لازم ہوجائے گی، اور کبھی سود سے راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے لوگوں کی ضرورت کی وجہ سے وعدہ کا پورا کرنا لازم ہوجاتا ہے۔
فریقِ رابع رہن کے حکم کے قائلین
امام سید ابوشجاع اور امام ابوالحسن علی السغدی اور امام قاضی ابوالحسن الماتریدی اور ائمہ خوارزم اور خاتم المجتہدین مولانا سیف الدین عصبہ وغیرہ بیع الوفاء کو رہن کے اصول وضابطہ کے دائرہ میں داخل کرتے ہیں ، اور اس کو رہن ہی تسلیم کرتے ہیں ، بس فرق اتنا ہے کہ ائمہ خوارزم بعض شرائط کے ساتھ رہن تسلیم کرتے ہیں اور امام سیف الدین عصبہ علی الاطلاق اس کو رہن تسلیم کرتے ہیں ، اسی طرح فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ امام ابوشجاع اور قاضی ابوالحسن علی سغدی بھی بیع الوفاء کو علی الاطلاق رہن کے اصول وضوابط کے دائرہ میں داخل کرکے اس کے اوپر رہن کے حکم کی طرح حکم لگاتے ہیں ، چناں چہ ان کے نزدیک مشتری مبیع کا مالک نہیں ہوگا اور مبیع سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانا مشتری کے لئے جائز نہیں ہوگا؛ البتہ رہن کی طرح مالک کی اجازت سے فائدہ اٹھانا جائز ہوسکتا ہے، اور رہن کی طرح مبیع کے ہلاک ہونے کی وجہ سے
10 میں سے 691
(۱) بوقتِ عقد بیع مطلق رکھی جائے اور بوقتِ واپسی جب بائع ثمن لے کر حاضر ہوجائے گا تو مشتری بیع کو فسخ کرنے کے لئے کسی کو وکیل بنادے۔
(۲) بیعِ مطلق کے بعد اس بات پر معاہدہ ہوجائے کہ جب بائع ثمن لے کر آئے گا تو خود بخود بیع فسخ ہوجائے گی۔
(۳) عقد کے بعد مشتری اصل مال پر نفع کی شرط لگادے تو ان تینوں صورتوں میں ائمہ خوارزم بیع الوفاء کو رہن کے درجہ میں قرار دیتے ہیں ۔
اور یہ حضرات بیع الوفاء کو رہن کے حکم میں قرار دینے میں حسبِ ذیل نظائر پیش کرتے ہیں :
(۱) اس بیع میں مشتری کو مبیع کی فروختگی کا حق نہیں ۔
(۲) مبیع کو دوسرے کے ہاتھ رہن میں رکھنے کا حق نہیں ۔
(۳) مبیع اگر باغ ہے تو اس کے درختوں کو کاٹنے کا حق نہیں ۔
(۴) مبیع اگر عمارت ہے تو منہدم کرنے کا حق نہیں ۔
(۵) مشتری کے ہاتھ میں اگر مبیع ہلاک ہوجائے تو ثمن اور دین ساقط ہوجاتا ہے؛ لہٰذا بائع سے ثمن کی واپسی کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔
(۶) اگر مبیع میں نقصان اور کمی آجائے تو رہن کی طرح ثمن اور دین طرفین کے درمیان نقصان کے تناسب سے تقسیم ہوجاتا ہے۔ (مستفاد: بزازیہ زکریا جدید ۱/ ۲۵۲، وعلی ہامش الہندیۃ ۴/ ۴۰۹)
(۷) جس طرح معاملہ رہن میں مرتہن کے مالِ رہن کو دوسرے کے ہاتھ فروخت کردینے پر راہن کو یہ حق حاصل ہوجاتا ہے کہ بیع باطل کرکے مالِ رہن کو اپنے قبضہ میں لے لے، اسی
10 میں سے 692
ان تمام نظائر کی وجہ سے ان حضرات نے اس کو رہن کے اصول وضابطہ کے دائرہ میں داخل کردیا ہے، اور ان لوگوں کی رائے کے مطابق مشتری بائع کی اجازت کے بغیر مالِ مبیع سے کوئی فائدہ اٹھا نہیں سکتا۔ جو حسبِ ذیل عبارت سے واضح ہوتا ہے، ملاحظہ فرمائیے:
قَالَ أَکْثَرُ المَشَایِخِ مِنْہُمْ السَّیِّدُ الإِمَامُ أَبُوْ شُجَاعٍ وَالْقَاضِیْ الإِمَامُ أَبُو الْحَسَنِ عََلِي السُّغْدِيْ، حُکْمُہٗ حُکْمُ الرَّہْنِ لَا یَمْلِکُہُ الْمُشْتَرِيْ وَیَضْمَنُہُ الْمُشْتَرِيْ بِالأَکْلِ مِنْ ثَمَرِہٖ وَلَا یُبَاحُ لَہُ الْاِنْتِفَاعُ وَلَا الْأَکْلُ إِلاَّ بِإِبَاحَۃِ الْمَالِکِ وَیَسْقُطُ الدَّیْنُ بِہَلاَکِہٖ إِذَا کَانَ بِہٖ وَفَائً بِالدَّیْنِ وَلَا یَضْمَنُ الزِّیَادَۃَ إِذَا ہَلَکَ لَا بِصُنْعِہٖ
اکثر مشائخ نے کہا جن میں سید امام ابوشجاع اور قاضی امام ابوالحسن علی السغدی وغیرہ ہیں کہ اس بیع کا حکم رہن کے حکم کی طرح ہے، اس میں مشتری مبیع کا مالک نہیں ہوگا اور اس کے پھل کھانے کی وجہ سے مشتری اس کا ضامن ہوجائے گاا، اور مشتری کے لئے مبیع سے انتفاع مباح نہیں ہے، اور نہ ہی اس میں سے کچھ کھانا جائز ہے، مگر مالک کی اجازت سے جائز ہے اور مبیع کی ہلاکت کی وجہ سے دین ساقط ہوجائے گا، جب مبیع دین کے
10 میں سے 693
برابر ہو، اور زیادہ کا تاوان لازم نہیں ہوگا، جب مشتری کی تعدی اور لاپرواہی کے بغیر ہلاک ہوجائے اور بائع کو مبیع واپس لینے کا حق ہوگا جب دین ادا کردے۔
اور الجامع الوجیز میں حافظ الدین بزازیؒ نے ائمہ خوارزم کی رائے کو ان الفاظ کے ساتھ نقل فرمایا ہے، ملاحظہ فرمائیے:
وَاخْتَارَہٗ أَئِمَّۃُ خَوَارِزْمَ أَنَّہٗ إِذَا أَطْلَقَ الْبَیْعَ لٰکِنْ وَکَّلَ الْمُشْتَرِيْ وَکِیْلاً بِفَسْخِ الْبَیْعِ إِذَا أَحْضَرَ الْبَائِعُ الثَّمَنَ أَوْ عَہَدَ عَلیٰ أَنَّہٗ إِذَا أَوْفَاہُ فَسَخَ الْبَیْعُ وَالثَّمَنُ لَا یُعَادِلُ الْمَبِیْعَ وَفِیْہِ غَبَنٌ فَاحِشٌ أَوْ وَضَعَ الْمُشْتَرِيْ عَلٰی أَصْلِ الْمَالِ رِبْحاً بِأَنْ وَضَعَ عَلیٰ مِائَۃِ عِشْرِیْنَ دِیْنَاراً فَرَہَنَ (إِلٰی قَوْلِہٖ) وَاخْتَارَ خَاتَمُ الْمُجْتَہِدِیْنَ مَوْلَانَا سَیْفُ الدِّیْنِ الْعَصَبَۃُ أَنَّہٗ رَہْنٌ۔ (بزازیۃ، زکریا جدید ۱/ ۲۵۱، علی ہامش الہندیۃ ۴؍۴۰۷)
جس کو ائمہ خوارزم نے اختیار فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ جب بیع کو مطلق رکھا جائے؛ لیکن جب بائع ثمن لے کرکے حاضر ہوجائے تو مشتری بیع کو فسخ کرنے کے لئے کسی کو وکیل بنادے یا بیع مطلق کے بعد اس بات پر معاہدہ ہوجائے کہ جب بائع ثمن لاکر پیش کردے گا تو عقد بیع خود بخود فسخ ہوجائے گا اور ثمن مبیع کے برابر نہ ہو اور اس میں غبن فاحش ہو یا مشتری عقد کے بعد اصل مال پر نفع کی شرط لگادے مثلاً ہر سو دینار پر بیس دینار نفع کا رہے گا، تو ان تمام صورتوں میں یہ عقد رہن کے حکم میں ہوگا، اور خاتم المجتہدین مولانا سیف الدین عصبہ نے اسی کو اختیار فرمایا ہے کہ وہ رہن ہی ہوگا۔